شیموگہ یکم فروری (ایس او نیوز/آج کا انقلاب) EVM، CAA, NRC بھانڈا پھوڑ پریورتن یاترا جو کشمیر سے نکلی تھی، سنیچر کو شموگہ پہنچی جہاں ہزاروں لوگوں نے اس یاترا کا استقبال کیا۔ اس موقع پرشموگہ میں ای وی ایم سمیت شہریت قانون نیز این آرسی کی سخت مخالفت میں احتجاجی جلسہ کا اہتمام کیا گیا تھا جس کو بہوجن کرانتی مورچہ سمیت سیٹیزن یونائٹیڈ مومنٹ نے منعقد کیا تھا۔ خیال رہے کہ یہ یاترا 2/فروری کو بھٹکل پہنچ رہی ہے ۔
عوام الناس سے خطاب کرتے ہوئے بہوجن کرانتی مورچہ کے قومی صدر وامن مشرام نے شہریت قانون سمیت این آر سی کو کالا قانون قرار دیا اور کہا کہ ان قوانین کو لانے کے لئے طاقت ای وی یم مشین سے حاصل ہوئی ہے ، وامن مشرم نے ای وی یم مشین کو سی اے اے اور ین آر سی سے بھی زیادہ خطرناک قراردیا اور ای وی یم مشین کو چورقرار کہتے ہوئے الیکشن کمیشن کو چوروں کا سردار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سید شجاع نے لندن میں رہ کر الیکشن کمیشن پر اعتراض جتایا تھا تو اس پر دہلی میں مقدمہ عائد کیا گیا لیکن میں شیموگہ میں رہ کر الیکشن کمیشن کو چوروں کا سردار کہہ رہا ہوں ہمت ہے تو مجھ پر بھی مقدمہ عائد کرکے دکھائے۔
وامن مشرام نے جسٹس بوبڈے کے تعلق سے بتایا کہ اُن کی شبیہ صاف ستھری نہیں ہے۔انکے دادا آر یس یس کے سینیر لیڈر رہے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ مرکزی حکومت کے چہیتے بنے ہوئے ہیں ۔وامن مشرام نے موجودہ حکومت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2019میں ای وی یم کے ساتھ وی وی پیٹ مشینیں لگائے جانے کے باوجود ای وی یم گھوٹالے کو روکنا مشکل ہورہاہے ، انہوں نے کانگریس کو بھی ای وی یم گھوٹالے میں ملوث قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اگر کانگریس نے سنجیدگی کے ساتھ اس کام کو انجام دیا ہوتا تو یقینا ملک میں بی جے پی اقتدار پر نہ آتی ۔ وامن مشرام کے مطابق ملک کو امیت شاہ اور مودی نہیں چلارہے ہیں بلکہ آر یس یس کے لوگ چلا رہے ہیں۔انہوں نے سی اے اے قانون کو مسلمانوں سے زیادہ یس سی یس ٹی کیلئے نقصاندہ قرار دیا، انہوں نے کہا کہ 1969میں برتھ سرٹیفیکٹ دینے کا قانون بنااور 1985سے یہ قانون نافذ ہوا، لیکن ین آر سی میں 1975سے دستاویزات مانگے جارہے ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ اب اس میں غلطی کس کی ہے ؟
وامن مشرام نے کہا کہ کاغذ دکھانے کا کام کرینگے تو ہمیں سوالات میں الجھا کر رکھ دیا جائے گا ، چاہو تو کاغذ بناکر رکھیں لیکن دستاویز ات نہ دکھائیں ۔وامن مشرام نے اپنے خطاب میں کانگریس پر بھی نشانہ لگایا اور کہا کہ منافق لفظ اگر کسی سیاسی پارٹی پر لاگو ہوتا ہے تو وہ کانگریس پر ہی لاگو ہوتاہے کیونکہ سی اے اے اور ین آر سی جیسے قوانین کانگریس کی ہی پشت پناہی سے عمل میں آئے ہیں۔
وامن مشرام کے مطابق شاہین باغ دہلی الیکشن میں مدعہ بنا ہواہے کیو نکہ اس میں مسلم عورتیں زیادہ نظر آرہی ہیں ، انہوں نے مشورہ دیا کہ اگرمسلمان ۔ اوبی سی اور خانہ بدوش لوگوں کو ساتھ لے کر اس قانون کے خلاف کام کریں تو اس کے نتائج زیادہ اچھے ہونگے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں دلتوں پر حملہ اور اُن کی پٹائی تین ہزار سال سے چلی آ رہی ہے جبکہ مسلمانوں کی پٹائی اب جاکر آزاد بھارت میں ہورہی ہے ۔ مزید بتایا کہ مسلمانوں پر ظلم جتنا کانگریس دور میں ہوا ہے اتنا ظلم بی جے پی کے دور میں نہیں ہواہے ۔ کانگریس نے مسلمانوں کے بنیادی سہولیات کو چھینا ہے اور اب بی جے پی انکی زندگیوں کو چھیننے کی کوشش کررہی ہے ۔ یہ جو ملک میں جنگ چل رہی ہے وہ تھوپی جانے والی جنگ ہے اور جنگ کو لڑنا ہے تو دو مظلوموں کوقریب آنا ہوگا اور دونوں کو ملنا ہوگا اوردونوں مظلوم مل کر ہی جنگ لڑیں گے تو کامیابی ملے گی۔
وامن مشرام نے کہا کہ یس سی یس ٹی ، لنگایت ، مسلم اور اوبی سی مل کر صرف پیشاب بھی کرلیں گے تو ظالم اس میں بہہ جائینگے ، انہوں نے مسلمانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو مانو گے تو بچ جائوگے اگر نہیں مانو گے تو ذلیل ہوجائو گے، مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس حکم کو ماننے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم لوگ یہ جنگ لڑنے کے لئے تیار ہیں۔
ڈی ایس ایس کے ریاستی کنوینر گرومورتی نے کہا کہ آزادی کی جنگ میں اس وقت بھی طلبا و طالبات قیادت کررہے تھے آج بھی طلبا و طالبات ہی قیادت کررہے ہیں لیکن آج حکومت طلبا پر کریمنل مقدمات نافذ کرتے ہوئے انکے مستقبل کو تباہ کرنے کی کوشش کررہی ہے ، اس ملک کی جملہ اسّی فیصد آبادی میں مسلمان ، دلت و پسماندہ طبقات کے لوگ ہیں ، لیکن ہم آج بھی اچھی حکومت بنانے سے قاصر ہیں اور بریانی و پیسوں کی خاطر بیہودہ حکومتوں کا انتخاب کررہے ہیں۔۔انہوں نے کہاکہ ملک میں سب یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم سب ہندو ہیں اور ہندو تمام ایک ہیں لیکن ہندوبرہمن نہیں ہیں اور جو برہمن ہیں وہ ہندو نہیں ہیں۔
احتجاجی جلسہ میں وکا س چودھری نے بات کرتے ہوئے کہاکہ اس ملک میں مسلمان جتنا پریشان ہیں اتنے ہی پریشا ن آدی واسی بھی ہیں ، کرناٹک میں لنگایت سماج چلا چلا کر کہہ رہا ہے کہ ہم ہندو نہیں ہیں ہمیں الگ مذہب قرار دیں ، لیکن ملک کے برہمن انہیں پکڑ پکڑ کر ہندو بنائے رکھنا چاہتے ہیں ، آزادی کے 72 سالوں میں کتوں کی گنتی ہوئی ، ہجڑوں کی گنتی ہوئی ، جانوروں کی گنتی ہوئی لیکن کبھی بھی او بی سی کی گنتی نہیں کی گئی ہے ، جب ووٹ لینا ہے تو مودی جی کو یاد آتاہے کہ او بی سی ہیں جب انہیں ریزرویشن دینا ہے تو او بی سی کا خیال نہیں آتا۔
وکاس چودھری نے بتایا کہ ملک کو گاندھی والی آزادی نہیں چاہئے بلکہ امبیڈکر والی آزادی چاہئے ، ہمارے لوگ گاندھی کی حقیقت کو نہیں جانتے ،انہو ں نے او بی سی کو نظر انداز کیا جس کی وجہ سے ہم لوگ آج بھی پریشان ہیں ، آزادی میں سب سے زیادہ مسلم علماء نے قربانیاں دی ہیں ، او بی سی نے قربانیاں دی ہیں لیکن آ ج ہماری ہی حالت بے حد خراب ہے ، ملک سے انگریز تو چلے گئے لیکن یہاں کے برہمنوں نے اس ملک کے لوگوں کو غلام بنا رکھا ہے۔ ہماری ہزاروں اوبی سی کی پیڑیوں نے انکی غلامی کی ہے لیکن انہیں اسکے عوض میں کچھ نہیں ملا ہے۔
وکاس چودھری کے مطابق بابا صاحب اور گاندھی جی کی آزادی ایک ساتھ نہیں مل سکتی ، اگر اس ملک کے شہریوں کو حق دیا ہے تو وہ بابا صاحب امبیڈ کر کے دستور نے دیا ہے ۔ آج یہ آواز دی جارہی ہے کہ سارے ہندو ایک ہوجائو لیکن ہمار ا سوال ہے کہ جب مہابھارت ، وید ، پران گیتا میں کہیں بھی ہندو لفظ لکھا ہی نہیں گیا ہے تو کن ہندووں کو ایک ہونے کی بات ہورہی ہے ؟ ہندو فارسی لفظ ہے جس کے معنی ہیں غلام ، بزدل اور لاچار ،اسی وجہ سے موجودہ برہمن ہم سب کو ہندو کہہ رہے ہیں ۔ بابا صاحب نے پورے دستور کو انگریز ی میں لکھا لیکن ایک لفظ انڈیا یعنی بھارت لکھا ، کیو نکہ بابا صاحب کو معلوم تھا کہ مستقبل میں برہمن ملک کو ہندوستان یا ہندو راشٹر کی شکل میں بدل دینگے۔ ملک کی عدلیہ ، ایوان اقتدار اور میڈیا پر قبضہ برہمنوں کا ہے مسلمانوں کا نہیں ، مگر برہمن خوامخواہ یہ پروپگنڈا کررہے ہیں کہ مسلمان اس ملک پر قبضہ جمع لیں گے ۔ ملک میں امن و انصاف اور عدل کا پیغام اسلام نے دیا ہے ، اسی وجہ سے دلتوں اور او بی سی نے برہمنوں کو ٹھکرا کر اسلا م قبول کیا ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب مل کر اس لڑائی کو لڑیں
احتجاجی جلسہ میں مولانا عاقل رضا مصباحی ، مولانا ہاشم رضا مصباحی ، مولانا حامد عمری ،اڈوکیٹ شریپال،مولانا سید مسعود ہاشمی، ولاس کرات، مولانا توفیق احمد،مدثراحمد،شہراز مجاہد صدیقی،عارف خان عارو،مولانا اطہر حسین سیلفی،مولانا شفیع سعدی تنگل،جناب قادر خان،امیتاز خان،مختاراحمد، انصر پاشاہ،محمدعارف اللہ،آصف شریف،پرویز احمد،اسماعیل خان،مزمل انور وغیرہ موجود تھے ۔
سیٹیزن یونائٹیڈ مومنٹ کے کنوینیر ناصراحمد نے نظامت کی ذمہ داری انجام دی ،جبکہ اڈوکیٹ شہراز نے احتجاجی جلسہ کے اغراض و مقاصد پیش کئے ۔آڈیٹر ظفر اللہ خان قادری نے مہمانوں کا استقبال کیا، جبکہ محمد نہال نیلونے آزادی کے نعرےبلند کرتے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ احتجاجی جلسہ میں8 ہزارسے زائد لوگ جمع ہوئے تھے،جس میں بڑی تعدادمیں خواتین بھی شریک تھیں۔شہرمیں ہونے والاقومی سطح کا یہ احتجاجی جلسہ پُر امن طریقے سے انجام پایا،جبکہ شہرکے مختلف لوگوں نے اس احتجاجی جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے مختلف طریقوں سے تعائون کیا تھا۔